اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فرانسیسی ٹی وی چینل فرانس ٹوئنٹی فور کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ انہوں نے سن دوہزار تیرہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انتہاپسندی اور تشدد سے پاک دنیا کے قیام کی تجویز پیش کی تھی جس کا عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گیا۔ صدر نے کہا کہ چاہیے ایٹمی معاہدے سے پہلے کی بات ہو یا اس کے بعد کی، ایران کبھی بھی عالمی برادری کے درمیان تنہا نہیں تھا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نےکہا کہ سن دو ہزار تیرہ میں بھی یورپی رہنما ایران کے خلاف پابندیوں کے خلاف تھے اور ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں کا راستہ صحیح نہیں ہے۔
صدر مملکت نے ایک بار پھر ایران کےاس موقف کا اعادہ کیا کہ شام کے بحران کو بیرونی مداخلت کے بغیر پرامن اور سیاسی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ اس میں ملوث عناصر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس واقعے پر سعودی حکومت کے ردعمل کو نامناسب قرار دیا۔ صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے او رسعودی عوام کو اپنا ہمسایہ اور دینی بھائی سمجھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲